Tuesday, July 22, 2014

junbishen 262


قطعات 

گوچہ - پیچی
سب کچھ تو صاف صاف تھا ، ارشاد کبریہ ،
تفسیر و ترجمہ کی ، کرامت نے کیا کیا ،
کیسے عوام پڑھ کے ، سمجھ لینگے حقیقت ،
تم نے لکھے ہوئے پہ ، ہی کچھ اور لکھ دیا ٠

  
انفرادیت 
جب شرع اجتہاد پہ ہو جایگی قضا 
جب پھر سے فرد پوجیگا اپنا ہی اک خدا 
جب چھوڑ دیگی فرد کو یہ اجتماعیت 
انسان جا کے پاےگا تب  اپنا مرتبہ 


عجیب بندہ 
سر جھکاے ہوئے ہی چلتا ہے 
کچھ عبارت زمیں کی پڑھتا ہے 
اس سے بھڑنا بڑا ہی مشکل ہے 
سارے الزام خود پہ مڑھتا ہے