Tuesday, September 27, 2011

aur netse ne kaha اور نیتسے نے کہا



اور نیتسے نے کہا



اے پیکرِ مظالم !
ہو تیرا نام کچھ بھی
گر تو ہے کر فرما
اس کایناتِ ہو کا
کچھ جنبشیں ہیں دل کی
اسکو سکوت دیدے

کیوں خنجروں میں تیرے، کچھ دھار ہی نہیں ہے
اک وار والی تیری، تلوار ہی نہیں ہے
ہے کند تیری چھوری، برسوں میں ریتتی ہے


تیروں میں تیری نوکیں، ہلکی سی کیوں مڑی ہیں
پھانسی کے تیرے پھندے، کیوں ڈھیلے رہ گۓ ہیں
مقتول کے لئے یہ، ترشول کیوں چنا ہے

یہ حربہُ اذیت، تجھ کو پسند کیوں ہیں
یک لخت موت تجھکو، کیون کر نہیں گوارہ
مخلوق پر تقاضہ، کیا ہے ترا بتا دے

سونا ہو یا کہ چاندی، ہیرا ہو یاکہ موتی
ظاہر ہے تو کہیگا,کچھ بھی نہیں یہ پتھر
تو چاہتا ہے سب سے، اک اک لہو کی بوندیں

جیسے دیا ہے تونے، ویسے ہی لےگا واپس
مئے اصل سود ظالم! تیرے ہیں یہ مظالم
انسان ہوں کہ حیواں، جتنے بھی ہوں پریشاں

ساسوں کے لالچی سب، ہر حال میں جئینگے
ہچکی کا سلسلہ دیں، جینے کی یہ سزا لیں.
تو کیسا ہے شکاری، کیسا ہے تو لٹیرہ

انسان جو خرد ہے، سجدوں میں جی رہا ہے
حیوان جو ہیں تغافل، وہ تجھ پی بھونتا ہے






Saturday, September 24, 2011

شک کے موتی


شک جرم نہیں، شک پاپ نہیں ، شک ہی تو اک پیمانہ ہے
وٕشواس میں لٹتے ہو سدا، وٕشواس میں کب تک جانا ہے٠

شک لازم ہے بھگوان و خدا پر، جنکی سو دوکانیں ہیں
اوتار پیمبر پر شک ہو، جو زیادہ تر فرزانے ہیں ٠

شک ہو صوفی سنیاسی پر، جو چھوٹے خدا بن بیٹھے ہیں
شک پھوٹے دھرم گرنتھوں پر، فاسق ہیں، دعا بن بیٹھے ہیں ٠

شک پھوٹے دھرم کے اڈوں پر ، جو اپنی حکومت پاۓ ہیں
جو پئے ہیں خون کی ندیوں کو ، جو مالِ غنیمت کھے ہیں ٠

شک تھوڑا سا خود پر بھی ہو، مجھ پر کوئی غالب تو نہیں
جو میرا گرو بن بیٹھا ہے، وہ بندوں کا غاصب تو نہیں ٠

شک کے پردے ہٹ جایں تو، 'منکر' حق کی تصویر ملے
قوموں کو نئی تعلیم ملے، ذھنو کو نی تاثیر ملے
٠

Tuesday, September 20, 2011

ghazal تعلیم نئی جہل مٹانے پہ تُلی ہے

 
تعلیم نئی، جہل مٹانے پہ تُلی ہے
روحانی وبا ہے کہ لبھانے پہ تُُلی ہے ٠


بیدار شریعت کی ضرورت ہے زمیں کو
افلاک کی یہ لوری سلانے پہ تُُلی ہے ٠

جو توڑ سکےگا، وہ بنایگا نیا گھر
ترکیبِ رفو عمر بِتانے پہ تلی ہے ٠


وہ کون جماعت ہے کہ جاگی ہے زمیں پہ ؟
جو زندگی کا جشن منانے پہ تلی ہے ٠


میں علم کی دولت کو جُٹانے پہ تُلا ہوں
قیمت کو میری بھیڑ گھٹانے پہ تلی ہے ٠


منکر کے ترازو پے انل حق کی دھری ہے
جنبش ہے کہ تصبیح کے دانوں پے تلی ہے٠

*********************

Saturday, September 17, 2011

gazal


مکّہ ثواب ہے نہ مدینہ ثواب ہے
گھر بار کی خوشی کا سفینہ سواب ہے ٠

بے کھٹکے ہو حیات تو جینا ثواب ہے
بچچوں کا حق ادا ہو ہو تو پینا ثواب ہے٠

ماتھے پی سج گیا تو پسینہ ثواب ہے
کہنتا اٹھا کے لاو دفینہ ثواب ہے ٠


بھولو یہی ہے ٹھیک کہ بد تر ہے انتقام
بغض و حسد نفاق، نہ کینہ ثواب ہے ٠

جاگو اے نو جوانو ، قنات حرام ہے
جوجھو زمیں پی ، نان شبینہ حرام ہے ٠

منکر کو کہ رہے ہو دہریہ ہے دوزخی
ناگاہ! احترم و قرینہ ثواب ہے ٠

Monday, September 12, 2011

ایش وانی


ایش وانی


میں ہوں وہ ایش کہ جسکا مجاز قدرت ہے

میں ہوں خود ساختہ اپنے میں مگن

میرا پیکر ہے الگ، پیکرِ انسانی سے


میری وانی ہے، نہ بھاشا کوی

نہ الفاظ کوئی اور نہ کوئی رسم الخط

میرے منہ آنکھ کان ناک نہیں

دل نہ رکھتا ہوں، نہ انسانی سمجھ رکھتا ہوں


میں سمجھتا ہوں نہ سمجھاتا ہوں

پیش کرتا ہوں نہ نہ فرماتا ہوں

میں تو اپنی ہی غزل گاتا ہوں

بہتے پانی کی صدا اور ہوا کی سر سر

میری وحیاں ہیں یہی اور ندا بھی یہ ہیں


گان پنچھی کی سنو، تاں سنو جنتو کے

یہی الہام خدا وندی ہے

بادلوں کی یہ گرج اور یہ بجلی کی چمک

ہیں یہ صدا یں میری

چرمراتے ہوئے بانسوں کی خنک

ہیں ندا یں میری


زلزلہ جوالہ مکھی اور بے راہم طوفاں

میری وحیوں کی نموداری ہے

ایش وانی یا خدا کے فرمان

جو کہ کاغذ پی لکھے ملتے ہیں

میری آواز کے پرتو بھی نہیں


میری تصویر ہے، آواز بھی ہے

دل کی دھڑکن میں سنواور پڑھو فطرت کو ٠

Saturday, September 10, 2011

مسلمانوں کے نام

مسلمانوں کے نام


خود کو سمجھ رہے ہو کہ روحِ رواں ہو تم

خلقت یہ کہ رہی ہے کہ اس پر گراں ہو تم ٠


سب فارغِ صلات، ابھی تک اذاں ہو تم

ہر سمت ہے بہار شکارِ خزاں ہو تم ٠


کیوں چاہتے ہو اپنا یقین سب پی تھوپ دو

ہے بھوت عقیدت کا وہیں پر، جہاں ہو تم ٠


فردا کی کوکھ میں ہیں سبھی حل چھپے ہوئے

ماضی سوار سمتِ مخالف رواں ہو تم٠


سر جسم پر ضرور ہے، روحوں کا کیا پتہ

اسکا خیال پہلے کرو ناتواں ہو تم ٠


شدّت ہے ، جنگ جوئی ہے، بے اعتدالی ہے

آپس میں لڑ رہے ہو، جہاں امتحان ہو تم ٠


محکوم گر ہوئے تو روا داری چاہئے

کچھ اور ہی ہوتے ہو جہاں حکمران ہو تم٠


جھوٹی شہادتوں کی صدا ہیں یہ اذانیں

کچھ شرم کرکے سوچو ، وہاں سے جہاں ہو تم ٠


منکر' جگا رہ ہے اٹھو مرتبہ والو '

اکیسویں صدی میں جہاں ہے کہاں ہو تم ٠

Monday, September 5, 2011

اپیل



اپیل


لپٹے لپٹے صدیاں گزریں، وہم کی ان میناروں سے
مندر، مسجد، گرجا ، مٹھ اور درباری دیواروں سے
انیائ اپدیشوں سے اور کپٹ بھرے اُپچاروں سے
دوزخ جنّت کی کلپت، ان انگاروں اُپہاروں سے ٠

بہت انوکھا جیوں ہے یہ، اسکو مت برباد کرو
ماضی کے مُردے ہیں یہ سب، انکو مُردہ باد کرو
اِنکا منتر اُنکا چھو نج بھاشا میں انو واد کرو
نِجتا کا کعبہ کاشی نِج جیوں میں آباد کرو ٠