اور نیتسے نے کہا
اے پیکرِ مظالم !
ہو تیرا نام کچھ بھی
گر تو ہے کر فرما
اس کایناتِ ہو کا
کچھ جنبشیں ہیں دل کی
اسکو سکوت دیدے
کیوں خنجروں میں تیرے، کچھ دھار ہی نہیں ہے
اک وار والی تیری، تلوار ہی نہیں ہے
ہے کند تیری چھوری، برسوں میں ریتتی ہے
تیروں میں تیری نوکیں، ہلکی سی کیوں مڑی ہیں
پھانسی کے تیرے پھندے، کیوں ڈھیلے رہ گۓ ہیں
مقتول کے لئے یہ، ترشول کیوں چنا ہے
یہ حربہُ اذیت، تجھ کو پسند کیوں ہیں
یک لخت موت تجھکو، کیون کر نہیں گوارہ
مخلوق پر تقاضہ، کیا ہے ترا بتا دے
سونا ہو یا کہ چاندی، ہیرا ہو یاکہ موتی
ظاہر ہے تو کہیگا,کچھ بھی نہیں یہ پتھر
تو چاہتا ہے سب سے، اک اک لہو کی بوندیں
جیسے دیا ہے تونے، ویسے ہی لےگا واپس
مئے اصل سود ظالم! تیرے ہیں یہ مظالم
انسان ہوں کہ حیواں، جتنے بھی ہوں پریشاں
ساسوں کے لالچی سب، ہر حال میں جئینگے
ہچکی کا سلسلہ دیں، جینے کی یہ سزا لیں.
تو کیسا ہے شکاری، کیسا ہے تو لٹیرہ
انسان جو خرد ہے، سجدوں میں جی رہا ہے
حیوان جو ہیں تغافل، وہ تجھ پی بھونتا ہے