Friday, October 28, 2011

GHAZAL محرومیاں ستایں نہ، نیندوں کی رات ہو

محرومیاں ستایں نہ، نیندوں کی رات ہو
دن بن کے بار گزرے نہ، ایسی نجات ہو٠

ہاتھوں کی ان لکیروں پہ، مت مار ئے چھڑی
استاد محترم ! زرہ شفقت کا ہاتھ ہو ٠

یہ کشمکش سی کیوں ہے، بغاوت کے ساتھ
پوری طرح سے دیو سے چھوٹو تو بات ہو ٠

کچھ ترک جو کریں تو سکوں و قرار ہو
خود ناپئے کہ آپ کی، کتنی بساط ھو ٠

اُنگلی سے چھو رہے ہیں تصّّور کی پر کو
موسا کی گفتگو میں خدایا بساط ہو ٠

اک گولی موت کی کما 'منکر' حلال کی
گر رزق کا ذریعہ ، مدد ہو زکات ہو ٠







Saturday, October 22, 2011

Haq Bajanib حق بجانب

حق بجانب

وحدانیت کے بُت کو گرایا تو ٹھیک تھا
اُس سحر قبریہ کو نکارا تو ٹھیک تھا ٠

گر حسن کو بتوں میں اُتارا تو ٹھیک تھا
پتھر میں آستھا کو تراشا تو ٹھیک تھا ٠

فرموودۓ فلک کے تقاضوں کو چھوڑ کر
دھرتی کے مُول منتر جو پایا تو ٹھیک تھا ٠

ماٹی سبھی کی جننی، شِکَم بھرنی تو ہی ہے
پُرکھوں نے تیرے مان کو پوجا تو ٹھیک تھا ٠

اے آفتاب تیری کرن سے حیات ہے
تجھکو کسی نے شیش تو ٹھیک تھا٠

پیڑوں کی برکتوں سے سجی کائنات ہے
ان پر جو ہمنے پانی چڑھایا تو ٹھیک تھا ٠

آتے ہیں سب کے کام مویشی عزیز تر
انکو جنو کے ساتھ جو چاہا ٹوٹ ٹھیک تھا ٠

اک سلسلہ ہے مرد پیمبر کا آج تک
عورت کے حق کو دیوی بنایا تو ٹھیک تھا ٠

ندیوں، سمندروں سے ہمیں زندگی ملی
ساحل پہ انکے جشن منایا تو ٹھیک تھا ٠

گنجائشیں نہیں ہوں جہاں اجتہاد کی
ایسے میں لطف کفر جو بھایا تو ٹھیک تھا ٠

پھر زندگی کو رقص کی آزادی مل گئی
'٠'منکر' نے سازِ نو جو اٹھایا تو ٹھیک تھا ٠








Monday, October 17, 2011

Nazm- - - Apeel اپیل

اپیل


لپٹے لپٹے صدیاں گزریں وہم کی ان دیواروں سے
مندر مسجد گرجہ مٹھ اور درباری میناروں سے ٠

اننیائی اُُپدیشوں سے اور کپٹ بھرے اُپچاروں سے
دوزخ جنّت کی کلپیت ، انگاروں اُُپہاروں سے ٠

بہت انوکھا جیوں ہے یہ ، اِسکو مت برباد کرو
ماضی کے مردے ہیں یہ سب ، انکو مردہ باد کرو٠

اِنکا منتر اُنکا چھو ، نِج بھاشا میں انواد کرو
نِِجتا کا کعبه کشی نِج جیون میں آباد کرو ٠

فرسودہ قدروں کے عاشق، نو خیزی ہے متقاضی
جاگو نئی صدی آئ ہے، اسمیں کچھ ایجاد کرو ٠

Thursday, October 13, 2011

Ghazal صبح اُفق ہے شام شفق ہے

صبح اُفق ہے شام شفق ہے
دیکھ خدا کی ایک جھلک ہے ٠

بات میں تیری سچ کی اوسط
دال میں جیسے یار نمک ہے ٠

آے کہاں سے تم ہو زاہد ؟
آنکھ پھٹی ہے ، چہرہ فق ہے٠

اسکی رام کہانی باطل
بے پر کی یہ سیر فلک ہے٠

مالِ غنیمت غازی کھاۓ
اسکی جنّت ایک نرک ہے ٠

دھرموں کا پنڈال جھوما
بھگتی کی دنیا مادک ہے٠

ہند ہے پاکستان نہیں ہے
بول بہادر جو بھی حق ہے ٠

کفر و ایمان سکری گلیاں
سچائی کی سیدہ سڑک ہے ٠

فطری باتیں عین صحیح ہیں
ما فوق الفطرت میں شک ہے ٠

کاوش کاوش حاصل حاصل
دو پاٹوں میں جان بحق ہے ٠

کتنی اُباؤ رب کی باتیں
'منکر' اف ! یہ کسکی جھک ہے؟











Saturday, October 8, 2011

Ghazal اگر خود کو سمجھ پاؤ تو خود اپنے خدا ہو تم



اگر خود کو سمجھ پاؤ تو خود اپنے خدا ہو تم
کہاں، کن کن کے بتلاہے ہووں میں، مبتلا ہو تم ٠

ہے اپنے آپ میں ہی کشمکش گر، تم لڑوگے کیا
اکٹھا کرلو خود کو، منتشر ہو جا بجا ہو تم ٠

مرے ماضی کا اپنے خود، دھندھوڑا پیٹنے والو
بہت شرمندہ ہے یہ حال، جسکے سانحہ ہو تم ٠

تم اپنے زہر کے سوغات کو، واپس ہی لے جاؤ
کہاں اتنے بڑے ہو، تحفہ دو مجھکو، گدا ہو تم ٠

فلک پر عاقبت کی کھیتیوں کو جوتنے والو
زمیں کہتی ہے اس پر ایک داغ بعد نما ہو تم ٠

چلو ویرانے میں 'منکر' کہ فرصت ہو خداؤں سے
بہت ممکن ہے مل جاۓ خدائی؛ حق، بجھ ہو تم ٠



Saturday, October 1, 2011

Ghazal ہے کیسی کشمکش یہ ، کیسا یہ وسوسہ ہے


ہے کیسی کشمکش یہ ، کیسا یہ وسوسہ ہے
یک سوئی چاہتا ہے ، دو پاٹ میں پھنسا ہے٠

دل جوئی تیری کی تھی ، بس یوں وہ ہنسا ہے
دلبر سمجھ کے جسکو تو چھونے پہ لسا ہے ٠

بکتا ہے آسماں کو تک تک کے میری صورت
پاگل نے میرا باطن ، کس زور سے کسا ہے ٠

سچ بولنے کی خاطر دو آنکھ ہی بہت تھیں
الفاظ چبھ رہے ہیں ، آواز نے ڈنسا ہے

کیسی ہے سینہ کوبی ، بھولے نہیں ہو اب تک
صدیوں کا حادثہ ہے، بہروں کا فاصلہ ہے ٠

ہے وادیوں میں بسی ، آبادی ساحلوں پر
دیکھو جنونِ 'منکر' ، گرداب میں بسا ہے.