Sunday, November 20, 2011

ghazal رہبر نے پیروی کا جنوں یوں بڑھا لیا

رہبر نے پیروی کا جنوں یوں بڑھا لیا

جب آنکھ میں نے کھولی تو تیورچڑھا لیا٠

تحقیق غور و فکر، طبعیت پہ بوجھ تھے

انداز سے جو ہاتھ میں آیا اٹھا لیا ٠


کرنا تھا انکو علم وعقیدت میں انتخاب

آسان تھیں عقیدتیں، سر میں جما لیا ٠


دیکھے جہاں زمیں پہ قدرت کے ناک و نقص

اک بُت وہیں پہ رکھ لیا، دھونی رما لیا ٠


پانا ہے گر خدا کو، تو بندوں سے پیار کر

وہمو کی بات تھی یہ غنیمت جو پا لیا٠


منکر کی صلح بھایوں سے اس طرح ہوئی

خوں پی لیا انہوں نے، تو غم میں نے پا لیا ٠

Saturday, November 5, 2011

Ghazal خارجی ہیں سب تماشے، ساقیہ اک جام ہو

خارجی ہیں سب تماشے، ساقیہ اک جام ہو
اپنی ہستی میں سِمٹ جاؤں تو کچھ آرام ہو٠

خود سری، خود بینی، خود داری، مجھے الہام ہے
کیوں خدا سازوں کی محفل سے مرا کچھ کام ہو٠

تم اسیرِ پیر مرشد ہو کہ تم مفرور ہو
ہمّت مرداں نہ آئ، یاکہ طفلِ خام ہو٠

ھاں ! یقینن ایک ہی لمحہ کہ کی یہ تخلیق ہے
ورنہ دنیا یوں ادھوری اور تشنہ کام ہو ٠

ہم پشیمان ہوں کبھی، نہ فخر کے عالم میں ہوں
عالمِ معصومیت ہو، بےخبر انجام ہو ٠

اصطبل میں نیند کی ماری ہیں 'مکر' کروٹیں
اونے پونے بیچ دے گھوڑے کو خالی دام ہو٠


Friday, October 28, 2011

GHAZAL محرومیاں ستایں نہ، نیندوں کی رات ہو

محرومیاں ستایں نہ، نیندوں کی رات ہو
دن بن کے بار گزرے نہ، ایسی نجات ہو٠

ہاتھوں کی ان لکیروں پہ، مت مار ئے چھڑی
استاد محترم ! زرہ شفقت کا ہاتھ ہو ٠

یہ کشمکش سی کیوں ہے، بغاوت کے ساتھ
پوری طرح سے دیو سے چھوٹو تو بات ہو ٠

کچھ ترک جو کریں تو سکوں و قرار ہو
خود ناپئے کہ آپ کی، کتنی بساط ھو ٠

اُنگلی سے چھو رہے ہیں تصّّور کی پر کو
موسا کی گفتگو میں خدایا بساط ہو ٠

اک گولی موت کی کما 'منکر' حلال کی
گر رزق کا ذریعہ ، مدد ہو زکات ہو ٠







Saturday, October 22, 2011

Haq Bajanib حق بجانب

حق بجانب

وحدانیت کے بُت کو گرایا تو ٹھیک تھا
اُس سحر قبریہ کو نکارا تو ٹھیک تھا ٠

گر حسن کو بتوں میں اُتارا تو ٹھیک تھا
پتھر میں آستھا کو تراشا تو ٹھیک تھا ٠

فرموودۓ فلک کے تقاضوں کو چھوڑ کر
دھرتی کے مُول منتر جو پایا تو ٹھیک تھا ٠

ماٹی سبھی کی جننی، شِکَم بھرنی تو ہی ہے
پُرکھوں نے تیرے مان کو پوجا تو ٹھیک تھا ٠

اے آفتاب تیری کرن سے حیات ہے
تجھکو کسی نے شیش تو ٹھیک تھا٠

پیڑوں کی برکتوں سے سجی کائنات ہے
ان پر جو ہمنے پانی چڑھایا تو ٹھیک تھا ٠

آتے ہیں سب کے کام مویشی عزیز تر
انکو جنو کے ساتھ جو چاہا ٹوٹ ٹھیک تھا ٠

اک سلسلہ ہے مرد پیمبر کا آج تک
عورت کے حق کو دیوی بنایا تو ٹھیک تھا ٠

ندیوں، سمندروں سے ہمیں زندگی ملی
ساحل پہ انکے جشن منایا تو ٹھیک تھا ٠

گنجائشیں نہیں ہوں جہاں اجتہاد کی
ایسے میں لطف کفر جو بھایا تو ٹھیک تھا ٠

پھر زندگی کو رقص کی آزادی مل گئی
'٠'منکر' نے سازِ نو جو اٹھایا تو ٹھیک تھا ٠








Monday, October 17, 2011

Nazm- - - Apeel اپیل

اپیل


لپٹے لپٹے صدیاں گزریں وہم کی ان دیواروں سے
مندر مسجد گرجہ مٹھ اور درباری میناروں سے ٠

اننیائی اُُپدیشوں سے اور کپٹ بھرے اُپچاروں سے
دوزخ جنّت کی کلپیت ، انگاروں اُُپہاروں سے ٠

بہت انوکھا جیوں ہے یہ ، اِسکو مت برباد کرو
ماضی کے مردے ہیں یہ سب ، انکو مردہ باد کرو٠

اِنکا منتر اُنکا چھو ، نِج بھاشا میں انواد کرو
نِِجتا کا کعبه کشی نِج جیون میں آباد کرو ٠

فرسودہ قدروں کے عاشق، نو خیزی ہے متقاضی
جاگو نئی صدی آئ ہے، اسمیں کچھ ایجاد کرو ٠

Thursday, October 13, 2011

Ghazal صبح اُفق ہے شام شفق ہے

صبح اُفق ہے شام شفق ہے
دیکھ خدا کی ایک جھلک ہے ٠

بات میں تیری سچ کی اوسط
دال میں جیسے یار نمک ہے ٠

آے کہاں سے تم ہو زاہد ؟
آنکھ پھٹی ہے ، چہرہ فق ہے٠

اسکی رام کہانی باطل
بے پر کی یہ سیر فلک ہے٠

مالِ غنیمت غازی کھاۓ
اسکی جنّت ایک نرک ہے ٠

دھرموں کا پنڈال جھوما
بھگتی کی دنیا مادک ہے٠

ہند ہے پاکستان نہیں ہے
بول بہادر جو بھی حق ہے ٠

کفر و ایمان سکری گلیاں
سچائی کی سیدہ سڑک ہے ٠

فطری باتیں عین صحیح ہیں
ما فوق الفطرت میں شک ہے ٠

کاوش کاوش حاصل حاصل
دو پاٹوں میں جان بحق ہے ٠

کتنی اُباؤ رب کی باتیں
'منکر' اف ! یہ کسکی جھک ہے؟











Saturday, October 8, 2011

Ghazal اگر خود کو سمجھ پاؤ تو خود اپنے خدا ہو تم



اگر خود کو سمجھ پاؤ تو خود اپنے خدا ہو تم
کہاں، کن کن کے بتلاہے ہووں میں، مبتلا ہو تم ٠

ہے اپنے آپ میں ہی کشمکش گر، تم لڑوگے کیا
اکٹھا کرلو خود کو، منتشر ہو جا بجا ہو تم ٠

مرے ماضی کا اپنے خود، دھندھوڑا پیٹنے والو
بہت شرمندہ ہے یہ حال، جسکے سانحہ ہو تم ٠

تم اپنے زہر کے سوغات کو، واپس ہی لے جاؤ
کہاں اتنے بڑے ہو، تحفہ دو مجھکو، گدا ہو تم ٠

فلک پر عاقبت کی کھیتیوں کو جوتنے والو
زمیں کہتی ہے اس پر ایک داغ بعد نما ہو تم ٠

چلو ویرانے میں 'منکر' کہ فرصت ہو خداؤں سے
بہت ممکن ہے مل جاۓ خدائی؛ حق، بجھ ہو تم ٠



Saturday, October 1, 2011

Ghazal ہے کیسی کشمکش یہ ، کیسا یہ وسوسہ ہے


ہے کیسی کشمکش یہ ، کیسا یہ وسوسہ ہے
یک سوئی چاہتا ہے ، دو پاٹ میں پھنسا ہے٠

دل جوئی تیری کی تھی ، بس یوں وہ ہنسا ہے
دلبر سمجھ کے جسکو تو چھونے پہ لسا ہے ٠

بکتا ہے آسماں کو تک تک کے میری صورت
پاگل نے میرا باطن ، کس زور سے کسا ہے ٠

سچ بولنے کی خاطر دو آنکھ ہی بہت تھیں
الفاظ چبھ رہے ہیں ، آواز نے ڈنسا ہے

کیسی ہے سینہ کوبی ، بھولے نہیں ہو اب تک
صدیوں کا حادثہ ہے، بہروں کا فاصلہ ہے ٠

ہے وادیوں میں بسی ، آبادی ساحلوں پر
دیکھو جنونِ 'منکر' ، گرداب میں بسا ہے.

Tuesday, September 27, 2011

aur netse ne kaha اور نیتسے نے کہا



اور نیتسے نے کہا



اے پیکرِ مظالم !
ہو تیرا نام کچھ بھی
گر تو ہے کر فرما
اس کایناتِ ہو کا
کچھ جنبشیں ہیں دل کی
اسکو سکوت دیدے

کیوں خنجروں میں تیرے، کچھ دھار ہی نہیں ہے
اک وار والی تیری، تلوار ہی نہیں ہے
ہے کند تیری چھوری، برسوں میں ریتتی ہے


تیروں میں تیری نوکیں، ہلکی سی کیوں مڑی ہیں
پھانسی کے تیرے پھندے، کیوں ڈھیلے رہ گۓ ہیں
مقتول کے لئے یہ، ترشول کیوں چنا ہے

یہ حربہُ اذیت، تجھ کو پسند کیوں ہیں
یک لخت موت تجھکو، کیون کر نہیں گوارہ
مخلوق پر تقاضہ، کیا ہے ترا بتا دے

سونا ہو یا کہ چاندی، ہیرا ہو یاکہ موتی
ظاہر ہے تو کہیگا,کچھ بھی نہیں یہ پتھر
تو چاہتا ہے سب سے، اک اک لہو کی بوندیں

جیسے دیا ہے تونے، ویسے ہی لےگا واپس
مئے اصل سود ظالم! تیرے ہیں یہ مظالم
انسان ہوں کہ حیواں، جتنے بھی ہوں پریشاں

ساسوں کے لالچی سب، ہر حال میں جئینگے
ہچکی کا سلسلہ دیں، جینے کی یہ سزا لیں.
تو کیسا ہے شکاری، کیسا ہے تو لٹیرہ

انسان جو خرد ہے، سجدوں میں جی رہا ہے
حیوان جو ہیں تغافل، وہ تجھ پی بھونتا ہے






Saturday, September 24, 2011

شک کے موتی


شک جرم نہیں، شک پاپ نہیں ، شک ہی تو اک پیمانہ ہے
وٕشواس میں لٹتے ہو سدا، وٕشواس میں کب تک جانا ہے٠

شک لازم ہے بھگوان و خدا پر، جنکی سو دوکانیں ہیں
اوتار پیمبر پر شک ہو، جو زیادہ تر فرزانے ہیں ٠

شک ہو صوفی سنیاسی پر، جو چھوٹے خدا بن بیٹھے ہیں
شک پھوٹے دھرم گرنتھوں پر، فاسق ہیں، دعا بن بیٹھے ہیں ٠

شک پھوٹے دھرم کے اڈوں پر ، جو اپنی حکومت پاۓ ہیں
جو پئے ہیں خون کی ندیوں کو ، جو مالِ غنیمت کھے ہیں ٠

شک تھوڑا سا خود پر بھی ہو، مجھ پر کوئی غالب تو نہیں
جو میرا گرو بن بیٹھا ہے، وہ بندوں کا غاصب تو نہیں ٠

شک کے پردے ہٹ جایں تو، 'منکر' حق کی تصویر ملے
قوموں کو نئی تعلیم ملے، ذھنو کو نی تاثیر ملے
٠

Tuesday, September 20, 2011

ghazal تعلیم نئی جہل مٹانے پہ تُلی ہے

 
تعلیم نئی، جہل مٹانے پہ تُلی ہے
روحانی وبا ہے کہ لبھانے پہ تُُلی ہے ٠


بیدار شریعت کی ضرورت ہے زمیں کو
افلاک کی یہ لوری سلانے پہ تُُلی ہے ٠

جو توڑ سکےگا، وہ بنایگا نیا گھر
ترکیبِ رفو عمر بِتانے پہ تلی ہے ٠


وہ کون جماعت ہے کہ جاگی ہے زمیں پہ ؟
جو زندگی کا جشن منانے پہ تلی ہے ٠


میں علم کی دولت کو جُٹانے پہ تُلا ہوں
قیمت کو میری بھیڑ گھٹانے پہ تلی ہے ٠


منکر کے ترازو پے انل حق کی دھری ہے
جنبش ہے کہ تصبیح کے دانوں پے تلی ہے٠

*********************

Saturday, September 17, 2011

gazal


مکّہ ثواب ہے نہ مدینہ ثواب ہے
گھر بار کی خوشی کا سفینہ سواب ہے ٠

بے کھٹکے ہو حیات تو جینا ثواب ہے
بچچوں کا حق ادا ہو ہو تو پینا ثواب ہے٠

ماتھے پی سج گیا تو پسینہ ثواب ہے
کہنتا اٹھا کے لاو دفینہ ثواب ہے ٠


بھولو یہی ہے ٹھیک کہ بد تر ہے انتقام
بغض و حسد نفاق، نہ کینہ ثواب ہے ٠

جاگو اے نو جوانو ، قنات حرام ہے
جوجھو زمیں پی ، نان شبینہ حرام ہے ٠

منکر کو کہ رہے ہو دہریہ ہے دوزخی
ناگاہ! احترم و قرینہ ثواب ہے ٠

Monday, September 12, 2011

ایش وانی


ایش وانی


میں ہوں وہ ایش کہ جسکا مجاز قدرت ہے

میں ہوں خود ساختہ اپنے میں مگن

میرا پیکر ہے الگ، پیکرِ انسانی سے


میری وانی ہے، نہ بھاشا کوی

نہ الفاظ کوئی اور نہ کوئی رسم الخط

میرے منہ آنکھ کان ناک نہیں

دل نہ رکھتا ہوں، نہ انسانی سمجھ رکھتا ہوں


میں سمجھتا ہوں نہ سمجھاتا ہوں

پیش کرتا ہوں نہ نہ فرماتا ہوں

میں تو اپنی ہی غزل گاتا ہوں

بہتے پانی کی صدا اور ہوا کی سر سر

میری وحیاں ہیں یہی اور ندا بھی یہ ہیں


گان پنچھی کی سنو، تاں سنو جنتو کے

یہی الہام خدا وندی ہے

بادلوں کی یہ گرج اور یہ بجلی کی چمک

ہیں یہ صدا یں میری

چرمراتے ہوئے بانسوں کی خنک

ہیں ندا یں میری


زلزلہ جوالہ مکھی اور بے راہم طوفاں

میری وحیوں کی نموداری ہے

ایش وانی یا خدا کے فرمان

جو کہ کاغذ پی لکھے ملتے ہیں

میری آواز کے پرتو بھی نہیں


میری تصویر ہے، آواز بھی ہے

دل کی دھڑکن میں سنواور پڑھو فطرت کو ٠

Saturday, September 10, 2011

مسلمانوں کے نام

مسلمانوں کے نام


خود کو سمجھ رہے ہو کہ روحِ رواں ہو تم

خلقت یہ کہ رہی ہے کہ اس پر گراں ہو تم ٠


سب فارغِ صلات، ابھی تک اذاں ہو تم

ہر سمت ہے بہار شکارِ خزاں ہو تم ٠


کیوں چاہتے ہو اپنا یقین سب پی تھوپ دو

ہے بھوت عقیدت کا وہیں پر، جہاں ہو تم ٠


فردا کی کوکھ میں ہیں سبھی حل چھپے ہوئے

ماضی سوار سمتِ مخالف رواں ہو تم٠


سر جسم پر ضرور ہے، روحوں کا کیا پتہ

اسکا خیال پہلے کرو ناتواں ہو تم ٠


شدّت ہے ، جنگ جوئی ہے، بے اعتدالی ہے

آپس میں لڑ رہے ہو، جہاں امتحان ہو تم ٠


محکوم گر ہوئے تو روا داری چاہئے

کچھ اور ہی ہوتے ہو جہاں حکمران ہو تم٠


جھوٹی شہادتوں کی صدا ہیں یہ اذانیں

کچھ شرم کرکے سوچو ، وہاں سے جہاں ہو تم ٠


منکر' جگا رہ ہے اٹھو مرتبہ والو '

اکیسویں صدی میں جہاں ہے کہاں ہو تم ٠

Monday, September 5, 2011

اپیل



اپیل


لپٹے لپٹے صدیاں گزریں، وہم کی ان میناروں سے
مندر، مسجد، گرجا ، مٹھ اور درباری دیواروں سے
انیائ اپدیشوں سے اور کپٹ بھرے اُپچاروں سے
دوزخ جنّت کی کلپت، ان انگاروں اُپہاروں سے ٠

بہت انوکھا جیوں ہے یہ، اسکو مت برباد کرو
ماضی کے مُردے ہیں یہ سب، انکو مُردہ باد کرو
اِنکا منتر اُنکا چھو نج بھاشا میں انو واد کرو
نِجتا کا کعبہ کاشی نِج جیوں میں آباد کرو ٠

Sunday, August 28, 2011

رباعیات



رباعیات


مے حور غلامان خرابات نصیب
نہروں سے سجی جنّّتیں دیتا ہے مجیب
بس دیر ہے ایمان کے لے آنے کی
کیا خوب رجھاتا ہے انہیں انکا رقیب ٠

ان رسم و روایات کی مت بات کرو
تم جنسی خرافات کی مت بات کرو
کچھ باتیں ہیں معیوب نی قدروں میں
مذہب کی ذات پات کی مت بات کرو ٠

کہتا ہے زبر دست خود اپنے کو خدا
بندوں سے نمٹ لیتا ہے کس کے مولا
رسسی کو کرے ڈھیلی برائی کے لئے
پھر کھینچ بھی لیتا ہے شکاری کی طرح ٠

Saturday, August 27, 2011

راز خداوندی







راز خداوندی




اپنے خولوں سے نکل آؤ نئی دنیا میں
تم ہو اک قیدی مذاہب کے قید خانوں کے
ہم تمہیں شوشے بتاتے ہیں خدا وندوں کے
ساکن و صفر و نفی ، عرش کے باشندوں کے٠

یہ تصوّر میں جنم پاتے ہیں
بس قیاسوں میں کلبلاتے ہیں
چاہ ہوتے ہیں یہ سماعت کی
رزق ہوتے ہیں یہ جماعت کی
یہ کبھی سازشوں میں پلتے ہیں
جنگ کی بھٹیوں میں ڈھلتے ہیں
ڈر ستاۓ تو یہ پنپتے ہیں
گر ہو لالچ تو یہ نکھرتے ہیں٠

یہ صلح ناماۓ فاتح بھی ہوا کرتے ہیں
پیدا ہوتے ہیں نے ، کُہنہ مرا کرتے ہیں
ہم ہی رچتے ہیں اور کہا کرتے ہیں
سب کا خالق ہے وہی، سبکا رچیتا وہ ہے ٠



Wednesday, August 24, 2011

عید کی محرومیاں




 
عید کی محرومیاں
 
کیسی ہیں عید کی خوشیاں یہ نقاہت جیسی
جشن قرضے کی طرح، نعمتیں قیمت جیسی٠
عید کا چاند خوشی لےکے کہاں آیا ہے
گھر کے مکھیہ کے لئے فکرٍ چبھن لایا ہے٠
زیب تن کپڑے نۓ ہوں، تو خوشی عید ہے کیا ؟ ٠
فکرِ غربہ کے لئے حق کی یہ تائید ہے کیا ؟٠
قوم کی لعنتیں ہیں، فطره و خیرات و زکات
ٹھیکرے بھیکھ کے ٹھنکاے ہے امرہ کی یہ ذات ٠
پانچ وقتوں کی نمازیں ہیں ادا روزانہ
آج کے روز اضافہ ہے سفرٍِ دوگانہ ٠
اسکی کثرت سے کہیں کوئی خوشی ملتی ہے
اسکی تییاری میں ہی نصف صدی لگتی ہے ٠
آج کے دن تو نمازوں سے بری کرنا تھا
چھوٹ اس دن کے لئے مے بہ لبی کرنا تھا ٠
نو جواں دیو پری کے لئے میلے ہوتے
اپنی دنیا میں سبھی جوڑے اکیلے ہوتے ٠
ان چھوے جسم نۓ لمس کی لذّت پاتے
عید ہوتی یوں، نئی خوشیوں کی حیرت پاتے ٠
حسن کے رخ پہ شریعت کا نہ پردہ ہوتا
متقی ، پیر ، فقیہوں کو یہ مژدہ ہوتا٠
ہم سفر چننے کی یہ عید اجازت دیتی
فطرٍت خلق کو سنجیدگی فرصت دیتی ٠
عید آئ ہے مگر دل پھ چبھی پھانس لئے
کرب محرومی لئے ، گھٹتی ہی سانس لئے
٠

Thursday, August 18, 2011

میرا تعارف



ھندو کے لئے میں اک مسلم ہی ہوں آخر

مسلم یہ سمجھتے ہیں، گمراہ ہے کافر

انسان بھی ہوتے ہیں کچھ لوگ جہاں میں

غفلت میں ہیں یہ دونوں، سمجھاۓ گا منکر٠