Saturday, August 31, 2013
Friday, August 23, 2013
Friday, August 16, 2013
Saturday, August 10, 2013
Friday, August 9, 2013
bedariyaan 142
ہندی غزل
کبھی کبھی تو مجھے، تو نراش کرتا ہے
مرے وجود میں، خود کو تلاش کرتا ہے
مرے وجود کا خود، اپنا ایک پریچے ہے
سدھارتا نہیں، تو اسکو لاش کرتا ہے
کسی علاقہ کے تھوڑے، وکاس کی خاطر
بڑی زمیں کا تو، سرو ناش کرتا ہے
میں ہوش میں ہوں ہزارو کٹار کے آگے
تمہارے ہاتھ کا کنکر نراش کرتا ہے
نثار جاں سے تری، اس لئے عداوت ہے
ترے خداؤں کا وہ، پردہ فاش کرتا ہے
نشہ ہو شکتی کا، یا ہو شراب کا منکر
نشہ کی شان ہے ، وہ سرو ناش کرتا ہے
Friday, August 2, 2013
Subscribe to:
Posts (Atom)









