
Wednesday, November 30, 2011
Monday, November 28, 2011
Sunday, November 27, 2011
Sunday, November 20, 2011
ghazal رہبر نے پیروی کا جنوں یوں بڑھا لیا
رہبر نے پیروی کا جنوں یوں بڑھا لیا
جب آنکھ میں نے کھولی تو تیورچڑھا لیا٠
تحقیق غور و فکر، طبعیت پہ بوجھ تھے
انداز سے جو ہاتھ میں آیا اٹھا لیا ٠
کرنا تھا انکو علم وعقیدت میں انتخاب
آسان تھیں عقیدتیں، سر میں جما لیا ٠
دیکھے جہاں زمیں پہ قدرت کے ناک و نقص
اک بُت وہیں پہ رکھ لیا، دھونی رما لیا ٠
پانا ہے گر خدا کو، تو بندوں سے پیار کر
وہمو کی بات تھی یہ غنیمت جو پا لیا٠
منکر کی صلح بھایوں سے اس طرح ہوئی
خوں پی لیا انہوں نے، تو غم میں نے پا لیا ٠
Saturday, November 5, 2011
Ghazal خارجی ہیں سب تماشے، ساقیہ اک جام ہو
خارجی ہیں سب تماشے، ساقیہ اک جام ہو
اپنی ہستی میں سِمٹ جاؤں تو کچھ آرام ہو٠
خود سری، خود بینی، خود داری، مجھے الہام ہے
کیوں خدا سازوں کی محفل سے مرا کچھ کام ہو٠
تم اسیرِ پیر مرشد ہو کہ تم مفرور ہو
ہمّت مرداں نہ آئ، یاکہ طفلِ خام ہو٠
ھاں ! یقینن ایک ہی لمحہ کہ کی یہ تخلیق ہے
ورنہ دنیا یوں ادھوری اور تشنہ کام ہو ٠
ہم پشیمان ہوں کبھی، نہ فخر کے عالم میں ہوں
عالمِ معصومیت ہو، بےخبر انجام ہو ٠
اصطبل میں نیند کی ماری ہیں 'مکر' کروٹیں
اونے پونے بیچ دے گھوڑے کو خالی دام ہو٠
اپنی ہستی میں سِمٹ جاؤں تو کچھ آرام ہو٠
خود سری، خود بینی، خود داری، مجھے الہام ہے
کیوں خدا سازوں کی محفل سے مرا کچھ کام ہو٠
تم اسیرِ پیر مرشد ہو کہ تم مفرور ہو
ہمّت مرداں نہ آئ، یاکہ طفلِ خام ہو٠
ھاں ! یقینن ایک ہی لمحہ کہ کی یہ تخلیق ہے
ورنہ دنیا یوں ادھوری اور تشنہ کام ہو ٠
ہم پشیمان ہوں کبھی، نہ فخر کے عالم میں ہوں
عالمِ معصومیت ہو، بےخبر انجام ہو ٠
اصطبل میں نیند کی ماری ہیں 'مکر' کروٹیں
اونے پونے بیچ دے گھوڑے کو خالی دام ہو٠
Subscribe to:
Posts (Atom)
















