Sunday, August 28, 2011

رباعیات



رباعیات


مے حور غلامان خرابات نصیب
نہروں سے سجی جنّّتیں دیتا ہے مجیب
بس دیر ہے ایمان کے لے آنے کی
کیا خوب رجھاتا ہے انہیں انکا رقیب ٠

ان رسم و روایات کی مت بات کرو
تم جنسی خرافات کی مت بات کرو
کچھ باتیں ہیں معیوب نی قدروں میں
مذہب کی ذات پات کی مت بات کرو ٠

کہتا ہے زبر دست خود اپنے کو خدا
بندوں سے نمٹ لیتا ہے کس کے مولا
رسسی کو کرے ڈھیلی برائی کے لئے
پھر کھینچ بھی لیتا ہے شکاری کی طرح ٠

Saturday, August 27, 2011

راز خداوندی







راز خداوندی




اپنے خولوں سے نکل آؤ نئی دنیا میں
تم ہو اک قیدی مذاہب کے قید خانوں کے
ہم تمہیں شوشے بتاتے ہیں خدا وندوں کے
ساکن و صفر و نفی ، عرش کے باشندوں کے٠

یہ تصوّر میں جنم پاتے ہیں
بس قیاسوں میں کلبلاتے ہیں
چاہ ہوتے ہیں یہ سماعت کی
رزق ہوتے ہیں یہ جماعت کی
یہ کبھی سازشوں میں پلتے ہیں
جنگ کی بھٹیوں میں ڈھلتے ہیں
ڈر ستاۓ تو یہ پنپتے ہیں
گر ہو لالچ تو یہ نکھرتے ہیں٠

یہ صلح ناماۓ فاتح بھی ہوا کرتے ہیں
پیدا ہوتے ہیں نے ، کُہنہ مرا کرتے ہیں
ہم ہی رچتے ہیں اور کہا کرتے ہیں
سب کا خالق ہے وہی، سبکا رچیتا وہ ہے ٠



Wednesday, August 24, 2011

عید کی محرومیاں




 
عید کی محرومیاں
 
کیسی ہیں عید کی خوشیاں یہ نقاہت جیسی
جشن قرضے کی طرح، نعمتیں قیمت جیسی٠
عید کا چاند خوشی لےکے کہاں آیا ہے
گھر کے مکھیہ کے لئے فکرٍ چبھن لایا ہے٠
زیب تن کپڑے نۓ ہوں، تو خوشی عید ہے کیا ؟ ٠
فکرِ غربہ کے لئے حق کی یہ تائید ہے کیا ؟٠
قوم کی لعنتیں ہیں، فطره و خیرات و زکات
ٹھیکرے بھیکھ کے ٹھنکاے ہے امرہ کی یہ ذات ٠
پانچ وقتوں کی نمازیں ہیں ادا روزانہ
آج کے روز اضافہ ہے سفرٍِ دوگانہ ٠
اسکی کثرت سے کہیں کوئی خوشی ملتی ہے
اسکی تییاری میں ہی نصف صدی لگتی ہے ٠
آج کے دن تو نمازوں سے بری کرنا تھا
چھوٹ اس دن کے لئے مے بہ لبی کرنا تھا ٠
نو جواں دیو پری کے لئے میلے ہوتے
اپنی دنیا میں سبھی جوڑے اکیلے ہوتے ٠
ان چھوے جسم نۓ لمس کی لذّت پاتے
عید ہوتی یوں، نئی خوشیوں کی حیرت پاتے ٠
حسن کے رخ پہ شریعت کا نہ پردہ ہوتا
متقی ، پیر ، فقیہوں کو یہ مژدہ ہوتا٠
ہم سفر چننے کی یہ عید اجازت دیتی
فطرٍت خلق کو سنجیدگی فرصت دیتی ٠
عید آئ ہے مگر دل پھ چبھی پھانس لئے
کرب محرومی لئے ، گھٹتی ہی سانس لئے
٠

Thursday, August 18, 2011

میرا تعارف



ھندو کے لئے میں اک مسلم ہی ہوں آخر

مسلم یہ سمجھتے ہیں، گمراہ ہے کافر

انسان بھی ہوتے ہیں کچھ لوگ جہاں میں

غفلت میں ہیں یہ دونوں، سمجھاۓ گا منکر٠