رباعیات
مے حور غلامان خرابات نصیب
نہروں سے سجی جنّّتیں دیتا ہے مجیب
بس دیر ہے ایمان کے لے آنے کی
کیا خوب رجھاتا ہے انہیں انکا رقیب ٠
ان رسم و روایات کی مت بات کرو
تم جنسی خرافات کی مت بات کرو
کچھ باتیں ہیں معیوب نی قدروں میں
مذہب کی ذات پات کی مت بات کرو ٠
کہتا ہے زبر دست خود اپنے کو خدا
بندوں سے نمٹ لیتا ہے کس کے مولا
رسسی کو کرے ڈھیلی برائی کے لئے
پھر کھینچ بھی لیتا ہے شکاری کی طرح ٠