Friday, August 9, 2013

bedariyaan 142


ہندی غزل

کبھی کبھی تو مجھے، تو نراش کرتا ہے 
مرے وجود میں، خود کو تلاش کرتا ہے 

 مرے وجود کا خود، اپنا ایک پریچے ہے 
سدھارتا نہیں، تو اسکو لاش کرتا ہے 

کسی علاقہ کے تھوڑے، وکاس کی خاطر 
بڑی زمیں کا تو، سرو ناش کرتا ہے


میں ہوش میں ہوں ہزارو کٹار کے آگے 
تمہارے ہاتھ کا کنکر نراش کرتا ہے 

نثار جاں سے تری، اس لئے عداوت ہے 
ترے خداؤں کا وہ، پردہ فاش کرتا ہے 

نشہ ہو شکتی کا، یا ہو شراب کا منکر 
نشہ کی شان ہے ، وہ سرو ناش کرتا ہے 

No comments:

Post a Comment