راز خداوندی
اپنے خولوں سے نکل آؤ نئی دنیا میں
تم ہو اک قیدی مذاہب کے قید خانوں کے
ہم تمہیں شوشے بتاتے ہیں خدا وندوں کے
ساکن و صفر و نفی ، عرش کے باشندوں کے٠
یہ تصوّر میں جنم پاتے ہیں
بس قیاسوں میں کلبلاتے ہیں
چاہ ہوتے ہیں یہ سماعت کی
رزق ہوتے ہیں یہ جماعت کی
یہ کبھی سازشوں میں پلتے ہیں
جنگ کی بھٹیوں میں ڈھلتے ہیں
ڈر ستاۓ تو یہ پنپتے ہیں
گر ہو لالچ تو یہ نکھرتے ہیں٠
یہ صلح ناماۓ فاتح بھی ہوا کرتے ہیں
پیدا ہوتے ہیں نے ، کُہنہ مرا کرتے ہیں
ہم ہی رچتے ہیں اور کہا کرتے ہیں
سب کا خالق ہے وہی، سبکا رچیتا وہ ہے ٠
No comments:
Post a Comment