Wednesday, August 24, 2011

عید کی محرومیاں




 
عید کی محرومیاں
 
کیسی ہیں عید کی خوشیاں یہ نقاہت جیسی
جشن قرضے کی طرح، نعمتیں قیمت جیسی٠
عید کا چاند خوشی لےکے کہاں آیا ہے
گھر کے مکھیہ کے لئے فکرٍ چبھن لایا ہے٠
زیب تن کپڑے نۓ ہوں، تو خوشی عید ہے کیا ؟ ٠
فکرِ غربہ کے لئے حق کی یہ تائید ہے کیا ؟٠
قوم کی لعنتیں ہیں، فطره و خیرات و زکات
ٹھیکرے بھیکھ کے ٹھنکاے ہے امرہ کی یہ ذات ٠
پانچ وقتوں کی نمازیں ہیں ادا روزانہ
آج کے روز اضافہ ہے سفرٍِ دوگانہ ٠
اسکی کثرت سے کہیں کوئی خوشی ملتی ہے
اسکی تییاری میں ہی نصف صدی لگتی ہے ٠
آج کے دن تو نمازوں سے بری کرنا تھا
چھوٹ اس دن کے لئے مے بہ لبی کرنا تھا ٠
نو جواں دیو پری کے لئے میلے ہوتے
اپنی دنیا میں سبھی جوڑے اکیلے ہوتے ٠
ان چھوے جسم نۓ لمس کی لذّت پاتے
عید ہوتی یوں، نئی خوشیوں کی حیرت پاتے ٠
حسن کے رخ پہ شریعت کا نہ پردہ ہوتا
متقی ، پیر ، فقیہوں کو یہ مژدہ ہوتا٠
ہم سفر چننے کی یہ عید اجازت دیتی
فطرٍت خلق کو سنجیدگی فرصت دیتی ٠
عید آئ ہے مگر دل پھ چبھی پھانس لئے
کرب محرومی لئے ، گھٹتی ہی سانس لئے
٠

No comments:

Post a Comment