رہبر نے پیروی کا جنوں یوں بڑھا لیا
جب آنکھ میں نے کھولی تو تیورچڑھا لیا٠
تحقیق غور و فکر، طبعیت پہ بوجھ تھے
انداز سے جو ہاتھ میں آیا اٹھا لیا ٠
کرنا تھا انکو علم وعقیدت میں انتخاب
آسان تھیں عقیدتیں، سر میں جما لیا ٠
دیکھے جہاں زمیں پہ قدرت کے ناک و نقص
اک بُت وہیں پہ رکھ لیا، دھونی رما لیا ٠
پانا ہے گر خدا کو، تو بندوں سے پیار کر
وہمو کی بات تھی یہ غنیمت جو پا لیا٠
منکر کی صلح بھایوں سے اس طرح ہوئی
خوں پی لیا انہوں نے، تو غم میں نے پا لیا ٠
No comments:
Post a Comment