خارجی ہیں سب تماشے، ساقیہ اک جام ہو
اپنی ہستی میں سِمٹ جاؤں تو کچھ آرام ہو٠
خود سری، خود بینی، خود داری، مجھے الہام ہے
کیوں خدا سازوں کی محفل سے مرا کچھ کام ہو٠
تم اسیرِ پیر مرشد ہو کہ تم مفرور ہو
ہمّت مرداں نہ آئ، یاکہ طفلِ خام ہو٠
ھاں ! یقینن ایک ہی لمحہ کہ کی یہ تخلیق ہے
ورنہ دنیا یوں ادھوری اور تشنہ کام ہو ٠
ہم پشیمان ہوں کبھی، نہ فخر کے عالم میں ہوں
عالمِ معصومیت ہو، بےخبر انجام ہو ٠
اصطبل میں نیند کی ماری ہیں 'مکر' کروٹیں
اونے پونے بیچ دے گھوڑے کو خالی دام ہو٠
اپنی ہستی میں سِمٹ جاؤں تو کچھ آرام ہو٠
خود سری، خود بینی، خود داری، مجھے الہام ہے
کیوں خدا سازوں کی محفل سے مرا کچھ کام ہو٠
تم اسیرِ پیر مرشد ہو کہ تم مفرور ہو
ہمّت مرداں نہ آئ، یاکہ طفلِ خام ہو٠
ھاں ! یقینن ایک ہی لمحہ کہ کی یہ تخلیق ہے
ورنہ دنیا یوں ادھوری اور تشنہ کام ہو ٠
ہم پشیمان ہوں کبھی، نہ فخر کے عالم میں ہوں
عالمِ معصومیت ہو، بےخبر انجام ہو ٠
اصطبل میں نیند کی ماری ہیں 'مکر' کروٹیں
اونے پونے بیچ دے گھوڑے کو خالی دام ہو٠
No comments:
Post a Comment