Friday, October 28, 2011

GHAZAL محرومیاں ستایں نہ، نیندوں کی رات ہو

محرومیاں ستایں نہ، نیندوں کی رات ہو
دن بن کے بار گزرے نہ، ایسی نجات ہو٠

ہاتھوں کی ان لکیروں پہ، مت مار ئے چھڑی
استاد محترم ! زرہ شفقت کا ہاتھ ہو ٠

یہ کشمکش سی کیوں ہے، بغاوت کے ساتھ
پوری طرح سے دیو سے چھوٹو تو بات ہو ٠

کچھ ترک جو کریں تو سکوں و قرار ہو
خود ناپئے کہ آپ کی، کتنی بساط ھو ٠

اُنگلی سے چھو رہے ہیں تصّّور کی پر کو
موسا کی گفتگو میں خدایا بساط ہو ٠

اک گولی موت کی کما 'منکر' حلال کی
گر رزق کا ذریعہ ، مدد ہو زکات ہو ٠







No comments:

Post a Comment