مسلمانوں کے نام
خود کو سمجھ رہے ہو کہ روحِ رواں ہو تم
خلقت یہ کہ رہی ہے کہ اس پر گراں ہو تم ٠
سب فارغِ صلات، ابھی تک اذاں ہو تم
ہر سمت ہے بہار شکارِ خزاں ہو تم ٠
کیوں چاہتے ہو اپنا یقین سب پی تھوپ دو
ہے بھوت عقیدت کا وہیں پر، جہاں ہو تم ٠
فردا کی کوکھ میں ہیں سبھی حل چھپے ہوئے
ماضی سوار سمتِ مخالف رواں ہو تم٠
سر جسم پر ضرور ہے، روحوں کا کیا پتہ
اسکا خیال پہلے کرو ناتواں ہو تم ٠
شدّت ہے ، جنگ جوئی ہے، بے اعتدالی ہے
آپس میں لڑ رہے ہو، جہاں امتحان ہو تم ٠
محکوم گر ہوئے تو روا داری چاہئے
کچھ اور ہی ہوتے ہو جہاں حکمران ہو تم٠
جھوٹی شہادتوں کی صدا ہیں یہ اذانیں
کچھ شرم کرکے سوچو ، وہاں سے جہاں ہو تم ٠
منکر' جگا رہ ہے اٹھو مرتبہ والو '
اکیسویں صدی میں جہاں ہے کہاں ہو تم ٠
No comments:
Post a Comment