Saturday, September 24, 2011

شک کے موتی


شک جرم نہیں، شک پاپ نہیں ، شک ہی تو اک پیمانہ ہے
وٕشواس میں لٹتے ہو سدا، وٕشواس میں کب تک جانا ہے٠

شک لازم ہے بھگوان و خدا پر، جنکی سو دوکانیں ہیں
اوتار پیمبر پر شک ہو، جو زیادہ تر فرزانے ہیں ٠

شک ہو صوفی سنیاسی پر، جو چھوٹے خدا بن بیٹھے ہیں
شک پھوٹے دھرم گرنتھوں پر، فاسق ہیں، دعا بن بیٹھے ہیں ٠

شک پھوٹے دھرم کے اڈوں پر ، جو اپنی حکومت پاۓ ہیں
جو پئے ہیں خون کی ندیوں کو ، جو مالِ غنیمت کھے ہیں ٠

شک تھوڑا سا خود پر بھی ہو، مجھ پر کوئی غالب تو نہیں
جو میرا گرو بن بیٹھا ہے، وہ بندوں کا غاصب تو نہیں ٠

شک کے پردے ہٹ جایں تو، 'منکر' حق کی تصویر ملے
قوموں کو نئی تعلیم ملے، ذھنو کو نی تاثیر ملے
٠

No comments:

Post a Comment