اپیل
لپٹے لپٹے صدیاں گزریں، وہم کی ان میناروں سے
مندر، مسجد، گرجا ، مٹھ اور درباری دیواروں سے
انیائ اپدیشوں سے اور کپٹ بھرے اُپچاروں سے
دوزخ جنّت کی کلپت، ان انگاروں اُپہاروں سے ٠
بہت انوکھا جیوں ہے یہ، اسکو مت برباد کرو
ماضی کے مُردے ہیں یہ سب، انکو مُردہ باد کرو
اِنکا منتر اُنکا چھو نج بھاشا میں انو واد کرو
نِجتا کا کعبہ کاشی نِج جیوں میں آباد کرو ٠
مندر، مسجد، گرجا ، مٹھ اور درباری دیواروں سے
انیائ اپدیشوں سے اور کپٹ بھرے اُپچاروں سے
دوزخ جنّت کی کلپت، ان انگاروں اُپہاروں سے ٠
بہت انوکھا جیوں ہے یہ، اسکو مت برباد کرو
ماضی کے مُردے ہیں یہ سب، انکو مُردہ باد کرو
اِنکا منتر اُنکا چھو نج بھاشا میں انو واد کرو
نِجتا کا کعبہ کاشی نِج جیوں میں آباد کرو ٠
No comments:
Post a Comment