ایش وانی
میں ہوں وہ ایش کہ جسکا مجاز قدرت ہے
میں ہوں خود ساختہ اپنے میں مگن
میرا پیکر ہے الگ، پیکرِ انسانی سے
میری وانی ہے، نہ بھاشا کوی
نہ الفاظ کوئی اور نہ کوئی رسم الخط
میرے منہ آنکھ کان ناک نہیں
دل نہ رکھتا ہوں، نہ انسانی سمجھ رکھتا ہوں
میں سمجھتا ہوں نہ سمجھاتا ہوں
پیش کرتا ہوں نہ نہ فرماتا ہوں
میں تو اپنی ہی غزل گاتا ہوں
بہتے پانی کی صدا اور ہوا کی سر سر
میری وحیاں ہیں یہی اور ندا بھی یہ ہیں
گان پنچھی کی سنو، تاں سنو جنتو کے
یہی الہام خدا وندی ہے
بادلوں کی یہ گرج اور یہ بجلی کی چمک
ہیں یہ صدا یں میری
چرمراتے ہوئے بانسوں کی خنک
ہیں ندا یں میری
زلزلہ جوالہ مکھی اور بے راہم طوفاں
میری وحیوں کی نموداری ہے
ایش وانی یا خدا کے فرمان
جو کہ کاغذ پی لکھے ملتے ہیں
میری آواز کے پرتو بھی نہیں
میری تصویر ہے، آواز بھی ہے
دل کی دھڑکن میں سنواور پڑھو فطرت کو ٠
No comments:
Post a Comment