Thursday, October 13, 2011

Ghazal صبح اُفق ہے شام شفق ہے

صبح اُفق ہے شام شفق ہے
دیکھ خدا کی ایک جھلک ہے ٠

بات میں تیری سچ کی اوسط
دال میں جیسے یار نمک ہے ٠

آے کہاں سے تم ہو زاہد ؟
آنکھ پھٹی ہے ، چہرہ فق ہے٠

اسکی رام کہانی باطل
بے پر کی یہ سیر فلک ہے٠

مالِ غنیمت غازی کھاۓ
اسکی جنّت ایک نرک ہے ٠

دھرموں کا پنڈال جھوما
بھگتی کی دنیا مادک ہے٠

ہند ہے پاکستان نہیں ہے
بول بہادر جو بھی حق ہے ٠

کفر و ایمان سکری گلیاں
سچائی کی سیدہ سڑک ہے ٠

فطری باتیں عین صحیح ہیں
ما فوق الفطرت میں شک ہے ٠

کاوش کاوش حاصل حاصل
دو پاٹوں میں جان بحق ہے ٠

کتنی اُباؤ رب کی باتیں
'منکر' اف ! یہ کسکی جھک ہے؟











No comments:

Post a Comment