اپیل
لپٹے لپٹے صدیاں گزریں وہم کی ان دیواروں سے
مندر مسجد گرجہ مٹھ اور درباری میناروں سے ٠
اننیائی اُُپدیشوں سے اور کپٹ بھرے اُپچاروں سے
دوزخ جنّت کی کلپیت ، انگاروں اُُپہاروں سے ٠
بہت انوکھا جیوں ہے یہ ، اِسکو مت برباد کرو
ماضی کے مردے ہیں یہ سب ، انکو مردہ باد کرو٠
اِنکا منتر اُنکا چھو ، نِج بھاشا میں انواد کرو
نِِجتا کا کعبه کشی نِج جیون میں آباد کرو ٠
فرسودہ قدروں کے عاشق، نو خیزی ہے متقاضی
جاگو نئی صدی آئ ہے، اسمیں کچھ ایجاد کرو ٠
مندر مسجد گرجہ مٹھ اور درباری میناروں سے ٠
اننیائی اُُپدیشوں سے اور کپٹ بھرے اُپچاروں سے
دوزخ جنّت کی کلپیت ، انگاروں اُُپہاروں سے ٠
بہت انوکھا جیوں ہے یہ ، اِسکو مت برباد کرو
ماضی کے مردے ہیں یہ سب ، انکو مردہ باد کرو٠
اِنکا منتر اُنکا چھو ، نِج بھاشا میں انواد کرو
نِِجتا کا کعبه کشی نِج جیون میں آباد کرو ٠
فرسودہ قدروں کے عاشق، نو خیزی ہے متقاضی
جاگو نئی صدی آئ ہے، اسمیں کچھ ایجاد کرو ٠
No comments:
Post a Comment