Saturday, October 1, 2011

Ghazal ہے کیسی کشمکش یہ ، کیسا یہ وسوسہ ہے


ہے کیسی کشمکش یہ ، کیسا یہ وسوسہ ہے
یک سوئی چاہتا ہے ، دو پاٹ میں پھنسا ہے٠

دل جوئی تیری کی تھی ، بس یوں وہ ہنسا ہے
دلبر سمجھ کے جسکو تو چھونے پہ لسا ہے ٠

بکتا ہے آسماں کو تک تک کے میری صورت
پاگل نے میرا باطن ، کس زور سے کسا ہے ٠

سچ بولنے کی خاطر دو آنکھ ہی بہت تھیں
الفاظ چبھ رہے ہیں ، آواز نے ڈنسا ہے

کیسی ہے سینہ کوبی ، بھولے نہیں ہو اب تک
صدیوں کا حادثہ ہے، بہروں کا فاصلہ ہے ٠

ہے وادیوں میں بسی ، آبادی ساحلوں پر
دیکھو جنونِ 'منکر' ، گرداب میں بسا ہے.

No comments:

Post a Comment