Saturday, October 22, 2011

Haq Bajanib حق بجانب

حق بجانب

وحدانیت کے بُت کو گرایا تو ٹھیک تھا
اُس سحر قبریہ کو نکارا تو ٹھیک تھا ٠

گر حسن کو بتوں میں اُتارا تو ٹھیک تھا
پتھر میں آستھا کو تراشا تو ٹھیک تھا ٠

فرموودۓ فلک کے تقاضوں کو چھوڑ کر
دھرتی کے مُول منتر جو پایا تو ٹھیک تھا ٠

ماٹی سبھی کی جننی، شِکَم بھرنی تو ہی ہے
پُرکھوں نے تیرے مان کو پوجا تو ٹھیک تھا ٠

اے آفتاب تیری کرن سے حیات ہے
تجھکو کسی نے شیش تو ٹھیک تھا٠

پیڑوں کی برکتوں سے سجی کائنات ہے
ان پر جو ہمنے پانی چڑھایا تو ٹھیک تھا ٠

آتے ہیں سب کے کام مویشی عزیز تر
انکو جنو کے ساتھ جو چاہا ٹوٹ ٹھیک تھا ٠

اک سلسلہ ہے مرد پیمبر کا آج تک
عورت کے حق کو دیوی بنایا تو ٹھیک تھا ٠

ندیوں، سمندروں سے ہمیں زندگی ملی
ساحل پہ انکے جشن منایا تو ٹھیک تھا ٠

گنجائشیں نہیں ہوں جہاں اجتہاد کی
ایسے میں لطف کفر جو بھایا تو ٹھیک تھا ٠

پھر زندگی کو رقص کی آزادی مل گئی
'٠'منکر' نے سازِ نو جو اٹھایا تو ٹھیک تھا ٠








No comments:

Post a Comment