حق بجانب
وحدانیت کے بُت کو گرایا تو ٹھیک تھا
اُس سحر قبریہ کو نکارا تو ٹھیک تھا ٠
گر حسن کو بتوں میں اُتارا تو ٹھیک تھا
پتھر میں آستھا کو تراشا تو ٹھیک تھا ٠
فرموودۓ فلک کے تقاضوں کو چھوڑ کر
دھرتی کے مُول منتر جو پایا تو ٹھیک تھا ٠
ماٹی سبھی کی جننی، شِکَم بھرنی تو ہی ہے
پُرکھوں نے تیرے مان کو پوجا تو ٹھیک تھا ٠
اے آفتاب تیری کرن سے حیات ہے
تجھکو کسی نے شیش تو ٹھیک تھا٠
پیڑوں کی برکتوں سے سجی کائنات ہے
ان پر جو ہمنے پانی چڑھایا تو ٹھیک تھا ٠
آتے ہیں سب کے کام مویشی عزیز تر
انکو جنو کے ساتھ جو چاہا ٹوٹ ٹھیک تھا ٠
اک سلسلہ ہے مرد پیمبر کا آج تک
عورت کے حق کو دیوی بنایا تو ٹھیک تھا ٠
ندیوں، سمندروں سے ہمیں زندگی ملی
ساحل پہ انکے جشن منایا تو ٹھیک تھا ٠
گنجائشیں نہیں ہوں جہاں اجتہاد کی
ایسے میں لطف کفر جو بھایا تو ٹھیک تھا ٠
پھر زندگی کو رقص کی آزادی مل گئی
'٠'منکر' نے سازِ نو جو اٹھایا تو ٹھیک تھا ٠
اُس سحر قبریہ کو نکارا تو ٹھیک تھا ٠
گر حسن کو بتوں میں اُتارا تو ٹھیک تھا
پتھر میں آستھا کو تراشا تو ٹھیک تھا ٠
فرموودۓ فلک کے تقاضوں کو چھوڑ کر
دھرتی کے مُول منتر جو پایا تو ٹھیک تھا ٠
ماٹی سبھی کی جننی، شِکَم بھرنی تو ہی ہے
پُرکھوں نے تیرے مان کو پوجا تو ٹھیک تھا ٠
اے آفتاب تیری کرن سے حیات ہے
تجھکو کسی نے شیش تو ٹھیک تھا٠
پیڑوں کی برکتوں سے سجی کائنات ہے
ان پر جو ہمنے پانی چڑھایا تو ٹھیک تھا ٠
آتے ہیں سب کے کام مویشی عزیز تر
انکو جنو کے ساتھ جو چاہا ٹوٹ ٹھیک تھا ٠
اک سلسلہ ہے مرد پیمبر کا آج تک
عورت کے حق کو دیوی بنایا تو ٹھیک تھا ٠
ندیوں، سمندروں سے ہمیں زندگی ملی
ساحل پہ انکے جشن منایا تو ٹھیک تھا ٠
گنجائشیں نہیں ہوں جہاں اجتہاد کی
ایسے میں لطف کفر جو بھایا تو ٹھیک تھا ٠
پھر زندگی کو رقص کی آزادی مل گئی
'٠'منکر' نے سازِ نو جو اٹھایا تو ٹھیک تھا ٠
No comments:
Post a Comment