Saturday, October 8, 2011

Ghazal اگر خود کو سمجھ پاؤ تو خود اپنے خدا ہو تم



اگر خود کو سمجھ پاؤ تو خود اپنے خدا ہو تم
کہاں، کن کن کے بتلاہے ہووں میں، مبتلا ہو تم ٠

ہے اپنے آپ میں ہی کشمکش گر، تم لڑوگے کیا
اکٹھا کرلو خود کو، منتشر ہو جا بجا ہو تم ٠

مرے ماضی کا اپنے خود، دھندھوڑا پیٹنے والو
بہت شرمندہ ہے یہ حال، جسکے سانحہ ہو تم ٠

تم اپنے زہر کے سوغات کو، واپس ہی لے جاؤ
کہاں اتنے بڑے ہو، تحفہ دو مجھکو، گدا ہو تم ٠

فلک پر عاقبت کی کھیتیوں کو جوتنے والو
زمیں کہتی ہے اس پر ایک داغ بعد نما ہو تم ٠

چلو ویرانے میں 'منکر' کہ فرصت ہو خداؤں سے
بہت ممکن ہے مل جاۓ خدائی؛ حق، بجھ ہو تم ٠



No comments:

Post a Comment