اگر خود کو سمجھ پاؤ تو خود اپنے خدا ہو تم
کہاں، کن کن کے بتلاہے ہووں میں، مبتلا ہو تم ٠
ہے اپنے آپ میں ہی کشمکش گر، تم لڑوگے کیا
اکٹھا کرلو خود کو، منتشر ہو جا بجا ہو تم ٠
مرے ماضی کا اپنے خود، دھندھوڑا پیٹنے والو
بہت شرمندہ ہے یہ حال، جسکے سانحہ ہو تم ٠
تم اپنے زہر کے سوغات کو، واپس ہی لے جاؤ
کہاں اتنے بڑے ہو، تحفہ دو مجھکو، گدا ہو تم ٠
فلک پر عاقبت کی کھیتیوں کو جوتنے والو
زمیں کہتی ہے اس پر ایک داغ بعد نما ہو تم ٠
چلو ویرانے میں 'منکر' کہ فرصت ہو خداؤں سے
بہت ممکن ہے مل جاۓ خدائی؛ حق، بجھ ہو تم ٠
No comments:
Post a Comment